"children should be seen and not heard" بـUrdu
التعريف
یہ ایک پرانا محاورہ ہے جس کا مطلب ہے کہ بچوں کو خاموش رہنا چاہیے اور بغیر ضرورت کے نہ بولیں۔ اسے بچوں کی شرافت اور ادب کے طور پر لیا جاتا ہے۔
ملاحظات الاستخدام (Urdu)
یہ آج کل متروک اور سخت تصور کیا جاتا ہے، اکثر مذاق یا تنقید کے طور پر سننے کو ملتا ہے۔ خاص طور پر پرانی نسل کے والدین کے رویے کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
أمثلة
My grandma always said, 'children should be seen and not heard'.
میری دادی ہمیشہ کہتی تھیں، '**بچوں کو صرف دیکھا جانا چاہیے، سنا نہیں جانا چاہیے**'۔
The teacher believed that children should be seen and not heard in the classroom.
استاد کا خیال تھا کہ کلاس میں '**بچوں کو صرف دیکھا جانا چاہیے، سنا نہیں جانا چاہیے**'۔
In the past, many parents agreed that children should be seen and not heard.
ماضی میں بہت سے والدین مانتے تھے کہ '**بچوں کو صرف دیکھا جانا چاہیے، سنا نہیں جانا چاہیے**'۔
He rolled his eyes and said, 'Well, you know, in my house, children should be seen and not heard.'
اس نے آنکھیں گھما کر کہا، 'پتا ہے نا، ہمارے گھر میں '**بچوں کو صرف دیکھا جانا چاہیے، سنا نہیں جانا چاہیے**'۔'
Whenever we got too noisy at the table, Dad would remind us: 'children should be seen and not heard.'
جب ہم ٹیبل پر زیادہ شور مچاتے تو ابو ہمیں یاد دلاتے: '**بچوں کو صرف دیکھا جانا چاہیے، سنا نہیں جانا چاہیے**'۔
The old saying 'children should be seen and not heard' really doesn't fit modern parenting anymore.
پرانی کہاوت '**بچوں کو صرف دیکھا جانا چاہیے، سنا نہیں جانا چاہیے**' آج کل کی والدین کے انداز میں بالکل موزوں نہیں رہی۔